1 جولائی 2014 - 13:20
داعش، اردن میں کس چیز کی تلاش میں

امریکا کی فوجی خفیہ ایجنسی کے سابق افسر كولونیل ڈریک ہارفي نے انکشاف کیا ہے کہ دولت الاسلامیہ فی العراق و الشام داعش، اردن میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے کے لئے اپنی طاقت بڑھانے اور نیا محاذ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ابنا: امریکا کی فوجی خفیہ ایجنسی کے سابق افسر كولونیل ڈریک ہارفي نے انکشاف کیا ہے کہ دولت الاسلامیہ فی العراق و الشام داعش، اردن میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے کے لئے اپنی طاقت بڑھانے اور نیا محاذ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش اردن میں مختلف دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینے اور اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے نیا محاذ تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان اقدامات کے لئے داعش بالواسطہ شام کے پناہ گزینوں کے کیمپوں پر حملہ بولے گا اور خفیہ ٹھکانے بنائے گا۔
دوسری طرف نیو امریکی ادارے کے ایک افسر ڈگلس اوليفانٹ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ داعش کے دہشت گرد، اردن میں شام کے پناہ گزین کے کیمپوں سے جنگجوؤں کو لینے کے لئے اس کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ، عراق کے لئے جنگجو تیار کرنے کا سب سے آسان راستہ ہے۔

ادھر اردن کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اردن حکومت اس بات کو لے کر فکر مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیکورٹی اہلکار اور خفیہ ایجنسیاں، داعش کو ملک سے باہر رکھنے میں مکمل توانائی رکھتی ہیں۔

.......

/169